ہمارے بارے میں

Younas Hassrat, the Chief Editor Daily Al-Bayan Pakistan has been active in journalism  for more than a decade. He is not only a writer and columnist but the period of his association with the national newspapers is exceeding 20 years. During the 90's, he also served as an editor of the two well-known Lahore based magazines. A leading journalist Mujeeb-ur-Rehman Shami famously remarked, “ Younas Hassrat is such a young journalist who has used his pen as a chisel. His is a notorious pen ... a bewitcher and a beautifier. ”

According to him :

“  Younas Hassrat a young journalist has found his landmark carving out his path. One and a half decades ago when he set out upon highways of the unchartered landscape of journalism like a badly adrift stranger, he had nothing to build on except his God-gifted talent and towering determination. But this Trojan horse came out of several battles fought with the weapon of pen with flying colours. He went on to prove the age –old maxim that the pen penetrates deeper than the sword. ”

 

کسی بھی صحافتی ادارے کے قیام میں ا س کی انتظامیہ کایہ اولین فریضہ ہے کہ وہ عوام پر ،اپنے قارئین پر اخبار کے بنیادی نصب العین ،اغراض ومقاصد اورعزائم و اہداف کوغیر مبہم وشفاف انداز میں واضح کرے کیونکہ یہ ایک اخبار کانصب العین ہی ہے جواس کے انتظامی فلسفے ،اخلاقی معیارات اورمقصدیت میں تسلسل کابراہ راست اظہارکرتاہے ۔اخبار کے پروگرام اورپالیسیوں کی تشکیل میں اس نصب العین کاکردار ایک رہنماکاہے ۔ 
پیشہ صحافت کی تقدیس کسی بھی قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے ۔۔۔۔۔۔کہ یہ عوام کے مفاد،حقوق اورآزادی کانگہبان ہے ۔ہمارے پیش رووں نے اس کڑے سفرمیں بے شمار قربانیاں دی ہیں اورنہ صرف کسی بھی قومی آزمائش کے وقت حب الوطنی ،محبت اوراخوت کے تقاضوں کے تحت عوام کے لیے قوت متحرکہ کاکرداراداکیاہے بلکہ آزادی صحافت پر بھی کوئی آنچ نہیں آنے دی۔یہ آزادی صحافت ہمیشہ ایک کڑے ضابطہ اخلاق اورہماری اخلاقی اقدار کے دائرہ کار کے اندر رہی ہے ۔عوام کی نگاہوں میں اس مقدس پیشے کی عزت و توقیر ہمارے انہی پیش رووں کے اخلاقی معیارات کی مرہون منت ہے ۔ہم صحافت کے ان روشن مناروں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اخباری صحافت ذمہ داریوں سے جڑی ہے ۔اپنے قارئین ،اپنے کارکنان اوراپنے مشتہر ین کے ضمن میں اس کی ذمہ داریاں ازحد ہیں ، اخباری عمل میں مفاد عامہ کاتحفظ اورمعاشرے کی خدمت اولین فریضہ ہے ،چنانچہ ان حوالوں سے اخبار کاکردار ہمہ جہتی ہے یعنی :سماجی ، سیاسی ،معاشرتی اورثقافتی ایشوز کے حوالے سے تازہ ترین خبروں کی غیر جانبدارانہ فراہمی ،واقعات کے حقیقی تناظر میں ان کی تشریح وتوضیح ، خبر کی فراہمی میں اپنے ذاتی فیصلے صادر کرنے سے اجتناب ،مفاد عامہ کے معاملات سے متعلق بحث و مباحثے کیلئے ایک فورم کی فراہمی ، میڈیسن ،ایگریکلچر ،تاریخ،معاشیات ،جغرافیہ ،سیاسیات اوردیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق تازہ ترین معلومات کی فراہمی کے ذریعے عوام کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں معاونت، برائی اورشر کے خلاف قلمی جہاد ،حکومت کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی اورغلط پالیسیوں کی نشاندہی اورگرفت جس کی غایت اصلاح اورعوامی مفادکاتحفظ ہو،عوام کی ذاتی ،سماجی اورپیشہ ورانہ زندگی میں بہتری لانے کیلئے جدوجہد۔۔۔۔۔۔اور اس سب کے ساتھ ساتھ طنزو مزاح ،فکاہیات اورکارٹونوں کے ذریعے عوام کیلئے تفریح طبع کاسامان مہیاکرناوغیرہ ۔
پیشہ صحافت کااہم اصول صحافیانہ مقصدیت ہے۔ اس مقصدیت کے پانچ اہم جز ہیں،یعنی ایمانداری ،غیر جانبداری،بے تعصبی ،واقعیت اوربے لاگ پن !روز نامہ البیان پاکستان کی پالیسی صحافیانہ مقصدیت کے انہی پانچ بنیادی اورزریں اصولوں پر استوار ہے ۔پالیسی کاپہلااصول ہے سچ!یہاں یہ صراحت ضروری ہے کہ فقط سچ نہیں بلکہ سچ اپنے کھرے پن کے ساتھ ۔بسااوقات ایسے مراحل درپیش ہوسکتے ہیں جہاں سچ کی ضمانت نہ دی جاسکتی ہووہاں یہ مقدم اصول ہوگاکہ جوکچھ پیش کیاجارہاہے ،وہ اپنے تئیں پوری صحت وصداقت کے ساتھ ہے ۔دوم ایمانداری اورغیر جانبداری:خبر کی بروقت فراہمی پوری ایمانداری ،غیر جانبداری ،صحت اورجامعیت کے ساتھ ہو۔تصویر کی طرح ہرکہانی کے بھی دوپہلوہوتے ہیں ۔اگرچہ ہر خبری تراشے کے ہر پہلوکوپیش کرناصحافتی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں نہیں ،لیکن توازن ایک ایسا لازمہ ہے جسے ہرصورت میں پیش نظر رکھاجائے گا۔یہاں یہ عرض کرتے چلیں توبے جانہ ہوگاکہ مقصدیت نہ توہمیشہ ممکن ہوتی ہے اورنہ ہی خاطر خواہ !مثال کے طور پر کسی وحشیانہ اورغیرانسانی واقعے کی صورت میں !ایسے واقعات کے ضمن میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اولین ترجیح ہوگی۔
ذمہ دارانہ رپو ر ٹنگ ہماری پا لیسی کا تیسرا اصول ہے ۔ کسی بھی واقعہ کو اپنے ذاتی مفاد کیلئے تو ڑ مرو ڑ کر پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ صحا فت اور ذمہ داری کا چو لی دامن کا ساتھ ہے ۔پیش کر دہ مواد کو نہ تواپنی مرضی اور نہ ہی کسی خا ص گروہ ٗجماعت یا طبقے کے مفادات کے تا بع ہو نا چا ہیے ۔ رائے عا مہ کی تشکیل میں اخبار کے ر ہنما کر دار کے پیش نظر ہم اس ضا بطہ اخلاق پر یقین ر کھتے ہیں کہ معا شرے کے الگ الگ طبقات کی ایک نما ئندہ تر جما نی اور عکاسی ہو تا کہ متفاوت نقطہ ہا ئے نظر کی حو صلہ ا فزائی ہو ۔جوابدہی ہماری پالیسی کاچوتھاجزہے ۔پیشہ ورانہ اورذمہ دارانہ صحافت کی ایک اہم نشانی خود کوعوام کے سامنے جوابدہ تصور کرناہے ۔ہم سے بھی غلطی سرزدہوسکتی ہے،لیکن غلطی کافی الفور اعتراف اوراس پرمخلصانہ اظہار افسوس پیشہ صحافت کے وقار کے منافی نہیں،اس امر پر ہماراپختہ یقین ہے ۔
روز نامہ البیان پاکستان کی انتظامیہ آزادی صحافت پر پختہ ایمان رکھتی ہے ۔یہ ہماری صحافتی پالیسی کاپانچواں اصول ہے ۔صدائے صحافت اورآزادی لازم و ملزوم ہیں ۔ہم ہر اس قانونی ،سماجی اورصحافتی ضابطہ اخلا ق کی حمایت کرتے ہیں جواس پیشے کی اقدار کے تحفظ کاضامن ہو۔پریس کی آزادی درحقیقت عوام کی ملکیت ہے اورعوام کے مفادا ت کاتحفظ ہمارانصب العین ہے ۔کسی بھی سرکاری یاغیر سرکاری جانب سے صحافتی فرائض کی بجاآوری میں بیجامداخلت اوردست اندازی ایک غیر مستحسن فعل ہے ۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ ریاستی حلقے اپنے مخصوص مفادات کے تحت دباؤ بڑھانے کی خاطر پریس کے استحصا ل سے گریز کریں گے ۔ہم دوسرے کی رائے کااحترام کرتے ہیں اوراسے عزت و احترام کے ساتھ پیش کرنے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ فیئر ٹرائل ہر شخص کابنیادی حق ہے ۔ہم ذ مہ دارانہ صحافت کاعزم کرتے ہیں اورانشاء اللہ اپنے اس عزم پر ہمیشہ کار بندرہتے ہوئے عوام اورمعاشرے کی خدمت کرتے رہیں گے۔